کرکٹ میں ورلڈ الیون کی تاریخی کہانی

ورلڈ الیون دنیا کی سات صف اول کی ٹیموں کے 14 کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

دنیا بھر کے کھیلوں میں جب کبھی بھی کسی ملک یا ٹیم پر برا وقت آیا تو عالمی تنظیموں اور دنیا کے دیگر ممالک نے دل کھول کر اس کی مدد کی اور اپنے سفرا اور نمائندوں کی مدد سے ملک میں کھیلوں کے مقابلے بحال کرنے کی کامیابی کوششیں کیں۔

فٹبال، ایتھلیٹکس، رگبی اور بیس بال کے ساتھ ساتھ کرکٹ میں بھی بڑے مقاصد کے حصول کیلئے ورلڈ الیون یا دیگر ٹیمیں تشکیل دے کر میچز کا اہتمام کیا گیا جسے دنیا بھر میں عوامی سطح پر بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔

2009 میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر ہونے والے دہشت گرد حملے نے پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے تمام باب بند کریے تھے۔

قذافی اسٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر ہونے والے اس حملے کے بعد ناصرف کرکٹ بلکہ کھیلوں کی دنیا سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد ملک میں کھیلوں کے میدان ویران ہوگئے تھے۔

پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کی واپسی کی کنجی صرف کرکٹ ٹیم کے پاس تھی، کیونکہ کھیلوں کا سلسلہ جہاں اختتام پذیر ہوا اسے وہاں سے شروع کرنا نہایت ضروری تھا۔

ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے مسلسل جدو جہد اور انتھک محنت کے بعد بالآخر بین الاقوامی کھلاڑیوں کو پاکستانی میدانوں میں کھیلنے پر رضامند کرلیا۔

کرکٹ کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے کرکٹ کی صف اول ٹیموں کے مختلف کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ‘آئی سی سی ورلڈ الیون’ پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے بند دروازے کو کھولنے کی ایک امید ایک مرتبہ پھر روشن ہوئی ہے۔

کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ آئی سی سی کی جانب سے نامزد کردہ ایک ٹیم کسی بھی بین الاقوامی ٹیم سے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مقابلہ کرے گی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ بین الاقوامی کھلاڑیوں پر مشتمل کوئی ٹیم کسی ملک کا دورہ کرے گی اور ایک باقاعدہ سیریز میں حصہ لے گی بلکہ اس سے قبل بھی کرکٹ میں کھیلوں کو فروغ دینے اور امداد کیلئے بین الاقوامی سطح پر فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے اکثر عالمی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیموں نے مختلف مواقعوں پر میچ میں حصہ لیا۔

گوکہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا لیکن اگر مقصدیت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ اب تک کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے اہم ترین دورہ ہے کیونکہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کا واحد ذریعہ یہی دورہ ثابت ہو سکتا ہے۔

چلیے آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ اب تک کب اور کس مقصد کے تحت ورلڈ الیون نے کس ٹیم سے مقابلہ کیا۔

سب سے پہلے اس طرح کا میچ 1966 میں دیکھنے میں آیا تھا جب انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور ورلڈ الیون کے مابین ایک سہ فریقی سیریز منعقد ہوئی، اس سیریز کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ کرکٹ میں اس وقت تک کبھی بھی 50 اوورز کی کرکٹ نہیں دیکھی گئی تھی۔ کولن کاؤڈرے کی کپتانی میں انگلش ٹیم نے یہ سیریز اپنے نام کی۔

بارباڈوس کی آزادی کی یاد میں 1967 میں بارباڈوس آزادی کپ کے نام سے بارباڈوس اور آل اسٹار الیون کے مابین ایک چار روزہ میچ کھیلا گیا جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے کھلاڑیوں نے شرکت کی تھی۔

اس کے بعد 1970 میں نسل پرستی کا شکار جنوبی افریقہ کے دورہ انگلینڈ کی منسوخی پر انگلینڈ سے پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کیلئے ایک ورلڈ الیون تشکیل دی گئی تھی جس میں پاکستان کے انتخاب عالم اور مشتاق محمد بھی شامل تھی اور سیریز میں ورلڈ الیون نے انگلینڈ کو 4-1 سے عبرتناک شکست دی تھی۔

اسی طرح 1971 میں جنوبی افریقہ نے سیریز کیلئے آسٹریلیا کا دورہ کرنا تھا لیکن آسٹریلیا نے دورہ منسوخ کردیا تھا اور اس موقع پر ایک ورلڈ الیون تشکیل دے کر آسٹریلیا بھیجی گئی تھی۔

اس ورلڈ الیون میں ایشین بریڈمین ظہیر عباس، انتخاب عالم اور آصف مسعود شامل تھے اور نومبر 1971 سے فروری 1972 تک 16 میچز کھیلے تھے۔

کیری پیکر کی ورلڈ سیریز کرکٹ نے 1977 میں ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور ورلڈ الیون کا مابین بین ایک روہ سیریز منعقد کرئی جس پاکستان کے سابق کپتان عمران خان سمیت جاوید میانداد، آصف اقبال، ماجد خان، مشتاق محمد، سرفراز نواز، تسلیم عارف اور ظہیر عباس جیسے نامور کھلاڑیوں نے شرکت کی۔

ایم سی سی کے 200 سال مکمل ہونے کی یاد میں ایم سی سی الیون اور ورلڈ الیون کے درمیان ایک پانچ روزہ میچ منعقد ہوا۔

اس میچ کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میچ میں شریک دونوں ٹیموں میں موجود کھلاڑی کسی ایک ملک کے نہیں بلکہ دنیائے کرکٹ کے مختلف کھلاڑی شرکت کر رہے تھے۔

برطانوی شہزادی لیڈی ڈیانا کے انتقال کے ایک سال بعد ایم سی سی نے ورلڈ الیون اور ایم سی سی الیون کے مابین ایک ون ڈے میچ منعقد کرانے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد لیڈی ڈیانا کے یادگاری فنڈ کے لیے 10 لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی رقم جمع کرنا تھا۔

اپریل 2000 میں آئی سی سی کے کرکٹ ویک کی خوشی میں ایشائی کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم بنائی گئی جسے ورلڈ الیون کا مقابلہ کرنا تھا، یہ میچ بنگلہ دیش کے دار الحکومت ڈھاکا میں منعقد کیا گیا، جس کا مقصد بنگلہ دیش میں کرکٹ کو فروغ دینا تھا۔

اس میچ میں مائیکل بیون نے 185 رنز کی یادگار اننگز کھیلی تھی لیکن یہ میچ کرکٹ کی تاریخ کے بہت بڑے اسکینڈل کی نذر ہو گیا تھا کیونکہ ایک دن قبل ہی سابق جنوبی افریقی کپتان ہنسی کرونیے کا میچ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔

24 دسمبر 2004 کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں آنے والے تاریخ کے تباہ کن سونامی کے بعد متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام کرنے کے لیے فنڈز جمع کرنے کے لیے ایک نمائشی مینچ منعقد کیا گیا جو ایشیا الیون اور ورلڈ الیون کے مابین 10 جنوری 2005 کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا گیا۔

اس میچ سے 1 کروڑ 70 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کی خطیر رقم جمع ہوئی جو سونامی متاثرین پر خرچ کی گئی۔

2005 کے ہی ماہ اکتوبر میں ورلڈ الیون اور آسٹریلیا کے مابین بین الاقوامی حیثیت کا حامل ایک ٹیسٹ اور تین ایک روزہ میچوں پر مشتمل سیریز کھیلی گئی جس میں اس وقت کی عالمی چیمپیئن اور اپنے دور کی بہترین آسٹریلین ٹیم نے اپنی واح برتری حاصل کرتے ہوئے حریفوں کو چاروں شانے چت کیا تھا۔

تین سال قبل 2014 میں لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی 200 سالہ تقریب کے موقع پر بین الاقوامی کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں، ‘ٹیم سچن’ اور ‘ٹیم شین کے درمیان ایک میچ منعقد ہوا تھا۔

یہ میچ لارڈز کی 200ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیے گئے تھے اور بارش سے متاثرہ یہ میچ شائقین میں بہت مقبول ہوا تھا لیکن میچ کے اختتام پر اینڈریو اسٹراس اور کیون پیٹرسن کے درمیان تنازع منظر عام پر آ گیا تھا۔

(Visited 49 times, 1 visits today)

About The Author

You Might Be Interested In

Loading...