محبتوں کے گلاب

محبتوں کے گلاب لے کر
کھڑی ہوں کب سے تمہارے در پر
انہی گلابوں سے دی ہے دستک
گلاب جیسے تمہارے دل پر
جو ہو اجازت گلاب سارے
میں اپنے جیون کے خواب سارے
حسین صبحیں ، رنگین شامیں
سب کی سب تیرے نام کردوں
یوں زندگی کی میں شام کردوں
یوں زندگی میں تمام کردوں
شاعرہ : شائستہ کنول نور

(Visited 23 times, 1 visits today)

About The Author

You Might Be Interested In

Loading...