عامر لیاقت صاحب! ایسے نہیں چلے گا! – سید عارف مصطفیٰ

5 ستمبر کو عامر لیاقت نے بول پر اپنے پروگرام میں یہ سوال اٹھایا کہ برما کے روہنگیا مظلومین پر ہونے والے مظالم کی تصاویر کون بنا رہا ہے اور یہ شوشا بھی چھوڑا کے یہ تصاویر کسی خاص مقصد کے تحت بنائی اور ریلیز کی جارہی ہیں اور وہ مقصد ہے وہاں پر امریکی افواج کو لابٹھانا تاکہ وہاں کے قدرتی وسائل پر امریکا قبضہ کرسکے۔ اب بظاہر تو اس بات میں سنسنی خیزی بھی بہت ہے اور اسی لیے دلچسپی کا سامان بھی وافر ہے، لیکن شاید عامر لیاقت نہیں جانتے کہ جذباتی اشتعال انگیزی کا ہتھیار بیک فائر کے کس قدر مہلک بن سکتا ہے اوراس سے روہنگیا مسئلہ کو ایک سسکتے انسانی ضمیر کے مسئلے سے اٹھا کے عالمی طاقتوں کی روایتی مخاصمت کے رنگ میں بدل کے بے اثر بنایا جاسکتا ہے کیونکہ عالمی طاقتیں کی آویزشوں‌ کے بہتیرے محاذ تو دنیا بھر میں پہلے سے موجود ہیں اس کے علاوہ ان کے اس احمقانہ بلکہ شرپسندانہ بیانیے کے تجزئیئے سے جو مزید نکات پیدا ہوتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں

1- اس بیانیے سے یہ شک پیدا ہو سکتا ہے کہ گویا یہ تصاویر جعلی ہیں اور کسی اور جگہ کے فسادات کو اسٹوڈیو ورک کے ذریعے کاری گری کرکے برمی مسلمانوں کی تصاویر کے پس منظر میں ڈال دیا گیا ہے۔۔۔ جس سے ان واقعات پر ہونے والے رد عمل کی شدت میں نمایاں کمی ہوسکتی ہے اور یوں مسلمانان پاکستان میں اپنے برمی کلمہ گو بھائیوں کے لیے زبردست ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی اور وسیع پیمانے پر جو امداد بھیجی جانے کی سرگرمیاں شروع ہوئی ہیں ان پر فرق پڑ سکتا ہے

2- اپنے اس تجزیئے میں انہوں نے ظلم و بربریت کے مناظر پر مبنی تصاویر کے بل پر امریکی افواج کو مداخلت کا موقع مل جانے کا جو نکتہ اٹھایا ہے وہ بھی بڑا ہی فضول اور بودا ہے کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں امریکا نے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے خاتمے کے لیے کبھی کوئی فوجی پیشرفت نہیں کی ورنہ مداخلت کے لیے 1992 میں بیروت میں قائم صابرہ اور شتیلیہ کے فلسطینی کیمپوں میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے قتل عام کے واقعات کی اور اس سے ہونے والی بربادی کی تصاویر ہی کافی تھیں – اسی طرح فلپائن میں مورز مسلمانوں اور تھائی لینڈ میں پتافی مسلمانوں‌ اور بھارت میں کشمیری مسلمانوں پر روا رکھے جانے واے مظالم پر بھی امریکا وہاں کیوں مداخلت نہ کرتا اس نے تو الٹا ہر جگہ صورتحال کو خراب سے خراب تر کرنے میں ضرور کردار ادا کیا جسکی سب سے بڑی مثال بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کا معاملہ ہے اور وہاں امریکا نے 1992 سے 1995 تک ہونے والے خونیں واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ بھی نہ کیا اور مداخلت سے قطعی گریز کیا اور اس عرصے میں خاموش تماشائی بنارہا حالانکہ کثیر وسائل تو وہاں بھی موجود تھے حتیٰ کہ 13 جولائی 1995 کو سربرینیکا شہر میں اقوام متحدہ اور نیٹو کی افواج کی موجودگی میں ایک ہی دن میں ساڑھے آٹھ ہزار مسلمان مارڈالے گئے اور ان کے گھر جلا دیئے گئے لیکن امریکا وہاں کی مسلم آبادی کو بڑے پیمانے پر ذبح ہونے دیا کیونکہ کسی مسلمان معاشرے میں سلامتی و استحکام پیدا کرنا اور امن کو یقینی بنانا اس کے ایجنڈے میں کہیں‌ بھی نہیں ہے

لیکن یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ ایک طرف تو وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو مشکوک بنارہے ہیں تو دوسری طرف ان کے لیے امداد لے کے پہنچنے کا عزم بھی ظاہر کررہے ہیں، بظاہر جسکی وجہ صرف ان کی پبلسٹی نہ ختم ہونے والی بھوک ہے۔ کاش کوئی عامر لیاقت کو یہ باور کرائے کہ ہرمسئلے میں منہ پھاڑ کے کچھ بھی نئی بات کہ ڈالنا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ ایسا غیرمحتاط چلن اس سے وابستہ تصورات اور اس سے منسلک لاکھوں لوگوں کو بہت ضرر پہنچاسکتا ہے وہ بصد شوق اپنی پبلسٹی کی بھوک مٹانے کے لیے جیسی چاہیں رنگا رنگی پیدا کریں لیکن خدارا! اس اہم انسانی و اسلامی مسئلے کو اس البیلے پن کی بھینٹ ہرگز نہ چڑھائیں کیونکہ “ایسے نہیں چلے گا!”

source

(Visited 52 times, 1 visits today)

About The Author

You Might Be Interested In

Loading...