امریکی سفارتخانے کی منتقلی، مسلم ممالک میں تشویش کی لہر

امریکی سفارتخانے کی منتقلی، مسلم ممالک میں تشویش کی لہر

اسلام آباد : امریکی صدر کی جانب سے سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کے فیصلے کیخلاف دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم ممالک نے امریکی سفارتخانے کی یروشلم منتقلی مسلمانوں کے جذبات پر حملہ اورعالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ امریکی اقدامات فلسطین اور مسلم امہ کیلئے اضطراب کا باعث ہیں، سفارتخانے کی منتقلی سے مسلم ممالک کو ایک اور زخم ملا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ سفارتخانے کی منتقلی سے بیت المقدس کی حیثیت تبدیل ہوگئی، امریکی اقدام سے دو ریاستوں کا حل بھی دفن ہوجائے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر ان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو دارالخلافہ قرار دینے کا فیصلہ ناقابل برداشت ہے، ایران اسلامی شعائر کی تقدیس کی خلاف ورزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔

اس کے علاوہ دیگر مسلم ممالک نے امریکی صدر کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، سعودی عرب، ایران، اردن، مصر، ترکی نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ بیت المقدس کا تنازع نہ چھیڑا جائے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتخانے کی منتقلی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کیلئےسرخ لکیر ہے، امریکی اقدام سے صرف دہشت گردوں کو فائدہ ہوگا۔ن

دوسری جانب فلسطینیوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کو دو ریاستی حل کی موت قرار دے دیا، غزہ، مغربی پٹی میں ہزاروں افراد نے احتجاج کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے، اس کے علاوہ حماس نے امریکی صدر کے اعلان کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کردیا۔

(Visited 97 times, 1 visits today)

About The Author

You Might Be Interested In

LEAVE YOUR COMMENT